جنگلا[2]

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - [ موسیقی ]  ایک راگ کا نام جو سہ پہر کو گایا جاتا ہے۔ "مغنیوں نے ہمیر کی راگنی اور جنگلے میں ناگر کا یہ خیال گانا اور بجانا شروع کیا۔"      ( ١٩٥٧ء، لکھنؤ کا شاہی اسٹیج، ٧٤ ) ٢ - لے، سر، تان۔ "جب پنجرے سے چھٹ جاتے ہیں تو درختوں پر جاتے ہی اپنا جنگلا بولنے لگتے ہیں۔"      ( ١٨٨٧ء، سنحندان فارس، ٤٦:٢ )

اشتقاق

سنسکرت کے اصل لفظ 'جنگلہ' سے ماخوذ اردو زبان میں 'جنگلا' مستعمل ہے اردو میں اصل معنی میں ہی بطور اسم مستعمل ہے ١٧٨٢ء میں "دیوان زادہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - [ موسیقی ]  ایک راگ کا نام جو سہ پہر کو گایا جاتا ہے۔ "مغنیوں نے ہمیر کی راگنی اور جنگلے میں ناگر کا یہ خیال گانا اور بجانا شروع کیا۔"      ( ١٩٥٧ء، لکھنؤ کا شاہی اسٹیج، ٧٤ ) ٢ - لے، سر، تان۔ "جب پنجرے سے چھٹ جاتے ہیں تو درختوں پر جاتے ہی اپنا جنگلا بولنے لگتے ہیں۔"      ( ١٨٨٧ء، سنحندان فارس، ٤٦:٢ )

اصل لفظ: جنگلیہ
جنس: مذکر